آسٹریلوی سائنس دانوں نے ایک تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ زہریلے ’فارایور کیمیکلز‘ شہد کی مکھیوں کے چھتے میں جمع ہو کر شہد کو متاثر کر کے انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پی ایف اوز کے نام سے پہچانے جانے والے یہ کیمیکلز داغ کی مذاحمت کرنے والے کپڑے، نان اسٹک برتن، آگ بجھانے والے فوم اور برقی آلات میں بڑی مقدار میں استعمال ہوتے ہیں اور یہ تحلیل نہ ہونے کی وجہ سے ماحول میں طویل مدت تک رہتے ہیں ماضی میں ہونے والے مطالعات یہ بتا چکے ہیں کہ پی ایف اوز صحت کے خطرات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن میں ہائی کالیسٹرول اور جگر کے انزائمز میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ تازہ ترین مطالعے میں محققین نے آسٹریلیا میں یورپی شہد کی مکھیوں کی کالونیوں پر پی ایف او ایس کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ دریافت کیا کہ اس مادے کے طویل عرصے تک سامنے رہنے سے شہد کی مکھیوں کے خلیات کے افعال کو کنٹرول کرنے والے چند اہم پروٹینز کے ایکسپریشن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ مطالعے کی مصنفہ کیرولین سونٹر نے بتایا کہ نئی نسل کی کم عمر شہد کی مکھیوں کے جسمانی بافتوں میں پی ایف او ایس کی موجودگی پائی گئی اور ان مکھیوں کا جسمانی وزن اُن مکھیوں کے مقابلے میں کم تھا جو پی ایف اوز کے اثر سے محفوظ (کنٹرول گروپ) تھیں۔ یہ تحقیق جرنل انوائرنمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع کی گئی۔
Tags:
سائنس وٹیکنالوجی