کبوتر راستہ کیسے ڈھونڈتے ہیں؟ سائنس دانوں کا دلچسپ انکشاف!

جرمنی کی یونیورسٹی آف بون اور میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے ماہرینِ حیاتیات کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کبوتروں کی حیرت انگیز سمت شناسی (Navigation) کا راز شاید ان کے جگر میں چھپا ہوا ہے۔ اس ہفتے سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ہومنگ کبوتر (وہ کبوتر جو سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنے گھر واپس پہنچ جاتے ہیں) زمین کی مقناطیسی فیلڈ کو محسوس کرنے کے لیے ممکنہ طور پر اپنے جگر کی مدد لیتے ہیں۔ محققین کے مطابق راک ڈَو (Columba livia) میں مقناطیسی معلومات حاصل کرنے کے طریقہ کار ابھی پوری طرح سمجھ نہیں آئے اور سائنس دان مسلسل نئی چیزیں دریافت کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے چونچ، آنکھوں اور دماغ میں کچھ ایسے نظام دریافت ہو چکے تھے جو سمت شناسی میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے جگر میں موجود سپر پیرا میگنیٹک میکروفیجز (خصوصی مدافعتی خلیات) کی موجودگی کی نشاندہی کی۔ میکروفیجز وہ خلیات ہیں جو پرانے سرخ خون کے خلیات کو توڑتے ہیں۔ اس عمل کے دوران ان میں آئرن (لوہا) جمع ہو جاتا ہے، جو انہیں مقناطیسی میدانوں کے لیے حساس بنا سکتا ہے۔ تحقیق میں جب ان میکروفیجز کو کم کر دیا گیا تو بادلوں سے ڈھکے آسمان کے نیچے پرواز کرنے والے کبوتر اپنی معمول کی سمت پہچاننے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ البتہ، جب سورج واضح طور پر نظر آ رہا تھا تو کبوتر بغیر کسی مشکل کے اپنا راستہ ڈھونڈ لیتے تھے، جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ سورج اور بصری نشانات کی مدد سے بھی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ تاہم، جب مقناطیسی رہنمائی کی بات آئی تو جگر کی مدد کے بغیر کبوتر مؤثر انداز میں راستہ تلاش نہ کر سکے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

ویب سائٹ کے بارے میں